13 مئی 2013 - 19:30
شام میں جنگ کی حمایت، صہیونی ایجنڈے کی تقویت

شام میں نام نہاد جہاد کے فتوے سازی کرنے والے سعودی درباری مفتی در اصل القاعده، النصره اور طالبان کی مدد سے امریکی اور صیہیونی ایجنڈے کو مزید تقویت دے کر آگے بڑھا رہے ہیں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ پچھلے دنوں دنیا نے غیر یقینی کے عالم میں یہ خبر سنی کہ تکفیری دهشت گردوں نے شام میں واقع صحابی رسول حضرت حجر بن عدی (رض) کے مزار اقدس کو نه صرف منهدم کردیا بلکه آپ کے جسد مبارک کو بھی قبر کھود کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس قبیح اور غیر انسانی فعل سے دنیا والوں پر ایک بار پھر تکفیریوں اور ان کی سر پرستی کرنے والوں کے کریه چہرے اور ناپاک عزائم کھل کر سامنے آگئے۔19 صدی کے اوائل میں حجاز کی مقدس اور پاک سرزمین پر خاندان آل رشید کا تخته الٹ کر براجمان هونے والے خاندان آل سعود نے کہ جسے برطانوی سامراج کی مکمل حمایت اور پشتپناہی حاصل تھی، عالم اسلام میں ایک ایسا رخنه ڈالا کہ آج تک مسلمان آپس میں دست بگریباں ہیں اور حالات بظاہر  بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔معاملات اگر سیاسی چپقلشوں اور اقتدار کی رسه کشی تک محدود هوتے تو  صبر کرلیا جاتا۔ فلسطین کا سودا کرنے پر بھی صبر آجا تا لیکن سلفیت اور تکفریت کے نام پرجو خنجر امت مسلمه کی پشت میں گھونپا گیا ہے اور اسلام کے نام پر جو خباثتیں یہ گروہ انجام دے رہا ہے وه اب ناقابل برداشت هوتی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب میں فتوی سازی کرنے والے درباری مفتی درا صل القاعده، النصره اور طالبان کی مدد سے امریکی اور صیہیونی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعے کے بعد  صدر وقت امریکہ جارج ڈبلیو بش نے چند ممالک کو بدی کا محور قرار دیا تھا ان میں شام بھی شامل تھا۔ البتہ افغانستان اورعراق کو ملیامیٹ کرکے امریکه  بدی کے محور دیگر ملکوں خصوصا شام پر براه راست جارحیت نہ کرسکا اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ  تھی امریکه عالمی سطح پر تنہا پڑ گیا تھا اور دوسرے یہ کہ اندورن ملک امریکی عوام کی جانب سے شدید مخالفت اور دباؤ کا سامنا تھا۔اس صورتحال سے فائدہ اٹھا تے ہوئے مسٹراوباما تبدیلی کا نعره لگا کرامریکی عوام اور عالمی رائے عامہ کو گمراه کرکے وائیٹ هاؤس میں براجمان ہوگئے تاہم اسلامی ملکوں پر تسلط اور اسرائیل کا تحفظ ان کی بنیادی خارجہ پالیسی کی حثیت سے ان کے پیش نظر رہا۔دو ڈھائی برس قبل شام میں بظاہر سیاسی مخالفین ملک میں اصلاحات کا نعرہ لگا کر سڑکوں پر نکلے تو عرب لیگ نے بالکل غیر متوقع اقدام کرتے ہوئےاس تنظیم میں شام کی رکنیت معطل کردی۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک اور تعجب خیز اقدام سعودی عرب کی جانب سے دیکھنے کوملا جس نے شام میں جمهوریت اور آزادی کے فقدان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے بشار اسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔سعودی عرب کی دیکھا دیکھی قطر نے بھی اسی طرح کے مضحکه خیز بیانات دئے اور پھر ترکی بھی اپنی نقاب اتار کر شام کے میدان جنگ میں بشار اسد کے حریف کے طور پر کود پڑا۔ ابتدا میں عالمی رائے عامہ اور اسلامی دنیا میں شام کے معاملے میں گمراہ ہوگئی اور مغربی میڈیا کے پروپیگنڈے کے زیراثر دہشت گردی کو بہار عربی سمجھ بیٹھی، لیکن ایک مسئله ایسا تھا کہ جو حالات و واقعات سے معمولی سی واقفیت رکھںے والوں کی سمجھ سے بالاتر تھی اور وہ شام میں آزادی اور جمہوریت کے فقدان پر سعودی عرب اور قطر جیسے ملکوں کی جانب سے واویلا تھا، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ آزادی اور جمہوریت دو ایسے مفاہیم ہیں کہ جن کا سعودی عرب اور قطر سے گذر بھی نہیں ہوتا، ان ملکوں پر ایک ہی خاندان کی حکومتیں برسہا برس سے قائم ہیں اور انتخابات کے مفہوم سے ان ملکوں کے عوام اور حکام دونوں نا آشنا ہیں۔مغربی میڈیا کے زیر اثر اسلامی دنیا کے اخبارات و جرائد اور ٹی وی چینلز شام سے متعلق خبروں کو برعکس کر کے پیش کرتے رہے نیز یورپ و امریکہ والے شامی باغیوں اور حکومت مخالفین کو شامی عوام کے حقیقی نمائندوں کے طور پر متعارف کرانے کا مشن انجام دیتے رہے۔ اس سارے قضیے کا دلچسپ پہلو یہ کہ امریکہ اور مغرب والے ساری دنیا میں القاعدہ اور اس کے همفکر گروپوں کو دہشت قرار دے کر ان کا قلع قمع کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن شام میں بشار اسد کے مخالفین کی حثیت سے انہی دہشت گرد گرہوں کی مالی، سیاسی، اور فوجی سپورٹ کرنے میں ذرہ برابر نہیں ہچکچا رہے۔ یہی کھلا تضاد اس امر کا باعث بنا که دنیا بتدریج اس بات سے واقف ہو گئی کہ شام میں آزادی اور جمهوریت کے فقدان کو بہانہ بناکر لڑی جانے والی جنگ دراصل اسی صلیبی جنگ کا تسلسل ہے کہ جس کا اعلان گیارہ ستمبر 2001 کے مشکوک واقعات کے بعد صدر وقت امریکه جارج ڈبلیو بش نے کیا تھا۔البتہ اس وقت امریکہ اور مغرب والے ایک تیر سے بیک وقت کئی شکار کر رہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے شام میں بشاراسد کے ہاتھوں انجام پانے والے فطری اور تدریجی سیاسی اصلاحات کے عمل کو روک دیا ہے اور دوسری طرف، ترکی، قطر اور سعودی عرب کو ایک ایسے محاذ پر کھڑا کردیا ہے کہ جہاں شکست یا کامیابی کی صورت میں خانه جنگی میں مشغول نام نہاد جہادی قوتوں کو سمٹنا اور ان کو ان کے گھروں میں پہچانا مکمن نه ہوگا اور نام نهاد جہادی قوتوں کو اپنے میزبان ملکوں میں پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا جس کے نتیجے میں ترکی، سعودی عرب اور قطر اسی صورتحال سے دوچار ہوں گے جس سے آج پاکستان دوچار ہے۔در اصل نام نهاد جہادی قوتوں کی انحرافی فکر اور طرز زندگی اور ان کی میزبان حکومتوں کے طور طریقوں اور روشوں میں اتنا زیادہ فرق اور تضاد پایا جاتا ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں۔ لہذا اپنے پیش نظر نام نہاد جہادی عمل سے فارغ ہونے کے بعد شامی باغی وہی کریں گے جو انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں کیا اورجس سے اس وقت ملت عراق دوچار ہے۔ترکی میں باغیوں کی موجودگی کے آثار ہویدا ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی میں مشغول دہشت گرد عناصر کی حمایتی محاذ میں اب اسرائیل بھی علی الاعلان کود پڑا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا اب کوئی مشکل کام نہیں کہ یه جنگ محض صدر بشار اسد کو ااقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے نہیں بلکہ شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے خلاف لڑی جارہی ہے کہ جس کا اصل اور بنیادی مقصد قدس شریف کی غاصب حکومت کو ان خدشات اور خطرات سے نکالنا ہے جو اسلامی بیداری کے لہر کے نتیجے میں اس کے وجود کو لاحق ہوگئے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسرائیل کے تحفظ کے لئے شام کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کا سارا بوجھ سعودی عرب اور قطر سمیت چند دیگر رجعت پسندعرب ممالک اور ترکی برداشت کر رہے ہیں اور امریکی مفادات کی خاطر حتی اپنے ملکوں کے اقتدار اور اعلی ارضی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲